Login / Register

علم ظاہر سے علم باطن کا سفر طے کروالے ایک مردباکمال کی آپ بیتی

2023-08-31 12:55:59

ہمارے لیے دعا کریں عمران اشرف کی طلاق کے بعد مداحوں سے درخواست

بار بار ردّ کئے جانے پر محمد رمضان بہت زیادہ مغموم و ملول تھا اوراب یہ سوچنے پر مجبور اور حق بجانب تھا کہ صرف اسے ہی ردّ کیوں کیا جا رہا ہے؟
اللہ کے ولی کے دل میں اس کے لئے ترحم پیدا کیوں نہیں ہو رہا۔
ایک وہ اللہ والے ہیں جو لوگوں کو دعوت عام دیتے ہیں کہ آؤ بیعت ہو جاؤ ہماری مگر یہ ہستی بے نیازی سے کیوں کام لیتی ہے۔کیا انہیں مریدوں سے بیعت لینے کاشوق نہیں،رغبت نہیں یا اسے ضروری نہیں سمجھتے۔یا پھر یہ کہ کیا وہ بہت زیادہ گناہ گارو سیاہ کار ہے کہ پیر صاحب اسے بیعت نہیں کررہے۔
اس میں کون سی حکمت ہے؟
برسوں گزر چکے ہیں پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوئے، میلوں کی مسافت، اپنوں کی شدید مخالفت، دھوپ بارش، کوئی بھی رشتہ اس کے قدموں کو پیر صاحب کے آستانے پر جانے سے نہیں روک پایا تھا مگرجس مقصدکی خاطر وہ درِولی پر دستک دے رہا تھا،وہ اسکی صداپر کھل ہی نہیں رہا تھا۔وہ کاسۂ سلوک تھامے کہاں کہاں نہیں گیا تھااور ہر کوئی اسے قبول کرنے کے لئے بے تاب بھی تھا لیکن ان حریص و بے شرع بے فیض پیروں کے پاس حقیقت میں دنیا داری کے سوا کچھ نہیں تھا۔۔۔ لیکن اگر کچھ محسوس ہوا،دل کے اندر ٹھنڈک اور نگاہ میں فیض کا خمار پیدا ہواتھا تو اس بے نیاز درویش کے آستانے پر ۔۔۔لیکن مقدرنے اسکے ساتھ عجیب کھیل کھیلا تھا۔وہ پیر صاحب سے بیعت کا تقاضا کرتامگروہ ہمیشہ اس کا دل توڑ دیتے اور فرماتے ’’جاؤ کسی بڑے پیر کی بیعت کرو میرے پاس اپنا وقت برباد کیوں کرنے آتے ہو۔‘‘اس نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ اگر پیر صاحب چھ سات سال کی مسلسل نیاز مندی اور خدمتگاری کے باوجود اسے قبول نہیں کر رہے تو وہ آج خود کشی کر لے گا۔ اور یہ اسکا حتمی فیصلہ تھا۔
پیرصاحب کا معمول تھا۔ اس ماہ رمضان میں بھی وہ پہلے روزے سے اعتکاف پر بیٹھ گئے تھے۔ مسجد میں ہی ان کا خیمہ نصب تھا۔ وہ اپنے خادم کے علاوہ کسی سے بات چیت نہیں کرتے تھے۔ صرف نماز کے اوقات میں باہر نکلتے اور پھر باجماعت نماز ادا کر کے خیمہ میں جا کر محوعبادت ہو جاتے۔
نماز عشاء کے بعد تراویح میں اسے عجیب لطف و سرشاری نصیب ہوئی اور وہ تراویح کے بعد ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر سسکیاں بھرنے لگا۔’’اے اللہ تو ہی میرا مقصود ہے۔ تجھے پانے کیلئے ،ترے قرب کی لذت عجب چیزہے مگر تو نے خود مجھے اس سے آشنا کیا ہے تو اب آشنائی سے میراتعلق مضبوط فرمادے ۔میں تزکیہ و تصفیہ کرنا چاہتا ہوں۔
اے غفور و رحیم مالک آج بھی اگر تیرے اس درویش ولی نے بیعت نہ کیا اور میرا تزکیہ تصفیہ کرنے کیلئے تربیت کا وعدہ نہ کیا تو میں مرجاؤں گا، خود کشی کرلوں گا۔‘‘
اسے یوں روتا اور سسکتا ہوا دیکھا تو پیر صاحب کے خادم محمد عثمان (آج کے جید عالم دین مولانا مفتی محمد عثمان رحیم یار خان والے) اسکے پاس آ گئے اور کہا۔’’ کیا بات ہے، روتے کیوں ہو۔‘‘
مولانا محمد عثمان کو یہ علم تھا کہ یہ نوجوان سیفی نہیں ہے لہذا یہ کیفیت میں مبتلا ہوئے بغیر رو رہا ہے اور اس کے رونے کا سبب کوئی اور بات ہو سکتی ہے۔
محمد رمضان نے اپنا مسئلہ اور جذبات گوش گزار کئے تو مولانا محمد عثمان نے اسکا ہاتھ پکڑا اور پیر صاحب کے خیمے میں لے گیا ۔پیر صاحب نے تابدار نگاہوں سے اسے دیکھا’’تم پھر آگئے ہو۔‘‘
’’جی حضور۔‘‘ اس نے عاجزی سے سر جھکایا
مولانا محمد عثمان نے اسکی وکالت کی۔’’ حضور بڑا مخلص نوجوان ہے۔ برسوں سے تمنائے بیعت لیکر آ رہا ہے۔ آج اس کا دل ٹوٹ چکا ہے اور کہتا ہے اگر آج بھی پیر صاحب نے بیعت نہ کیا تو خود کشی کر لے گا۔‘‘
’’لاحول ولاقوۃ‘‘ پیر صاحب نے گرجدار انداز میں کہااور پھر بولے۔‘‘ برخوردار۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں نے بیعت کرنا بند کر دی ہے۔ پچھلے پانچ سال سے بیعت نہیں کررہا۔ ہاں مگر تم کسی بڑے پیر کے پاس چلے جاؤ اور ان کے پاس بیعت ہو جاؤ۔‘‘
اتنا سننا تھا کہ محمد رمضان کی چیخیں نکل گئیں۔ وہ تڑپ اٹھا اور گریہ زاری کرنے لگا۔
’’ حضور یہ بہت مخلص ہے۔ آپ مہربانی فرمائیں۔ یہ اللہ کی رضا کا طالب ہے اور آپ خود فرماتے ہیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کی تمنا کرنے والوں کو مایوس نہیں کرنا چاہئے۔‘‘
مولانا محمد عثمان نے عجز کے ساتھ پیر صاحب سے اس کی سفارش کی اور پھر اسکی طرف دیکھ کر بولے’’ آ جا رمضان ۔۔۔ مہینہ بھی رمضان المبارک کا ہے، رمضان میں رمضان کی مراد پوری کرنا میرے لئے بھی سعادت ہو گی۔‘‘ پیر صاحب نے اسے بیعت کیا تو اس کی آنکھیں ایک بار پھر برس پڑیں۔ ’’ اب کیوں روتے ہو یار‘‘ پیر صاحب نے نرمی ومحبت سے دریافت کیا۔
’’شُکرانے کے آنسو ہیں حضور‘‘ محمد رمضان کے لبوں پر مسکان اُبھری۔
’’تو نر ہے نر۔۔۔ میرے مرشد حضرت اخندزادہ صاحب فرماتے ہیںیک مرید نر مرید‘‘ پیر صاحب نے کہا۔’’ میں مریدوں کی فوج بھرتی نہیں کرتا۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ میرے مرشد فرماتے ہیں مرید بنانے کیلئے پیچھے نہ بھاگا کرو۔ ان سے امیدیں نہ رکھو۔ سچے اور کھرے سالک کو ایک روز اس کا مرشد مل ہی جاتا ہے۔‘‘

وقت اشاعت : 2023-08-31 12:55:59